مدارس میں بچوں کے ساتھ مبینہ جنسی زیادتی: شکایات، خاموشی اور تحفظ کے نظام پر سوالات
ڈھاکہ — 21 اکتوبر 2026
بنگلہ دیش میں دینی مدارس میں زیرِ تعلیم لڑکوں کے ساتھ مبینہ جنسی زیادتی کے واقعات اور سابق طلبہ کے بیانات نے بچوں کے تحفظ، شکایات کی تحقیقات اور اداروں کی نگرانی کے نظام پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔
بنگلہ دیش میں دینی مدارس میں بچوں کے ساتھ مبینہ جنسی زیادتی کے واقعات سے متعلق سامنے آنے والی شکایات نے ایک بار پھر اس بحث کو جنم دیا ہے کہ رہائشی تعلیمی اداروں میں بچوں کو تشدد اور جنسی استحصال سے محفوظ رکھنے کے
لیے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
بی بی سی نیوز بنگلہ کی رپورٹ کے مطابق، بعض متاثرہ خاندانوں اور مدارس کے سابق طلبہ نے ایسے واقعات کے بارے میں بتایا جن میں بچوں کو مبینہ طور پر جنسی استحصال کا سامنا کرنا پڑا۔ بعض بیانات میں یہ الزام بھی لگایا گیا کہ شکایت کرنے والے بچوں کو تحفظ فراہم کرنے کے بجائے خاموش رہنے کے لیے دباؤ کا سامنا کرنا پڑا۔
ان الزامات کی آزادانہ تصدیق اس تحریر کے لیے نہیں کی گئی۔ تاہم، ان بیانات نے بچوں کے تحفظ کے مؤثر نظام، شکایات کی غیر جانب دارانہ تحقیقات اور اداروں کی جواب دہی سے متعلق خدشات کو نمایاں کیا ہے۔
سات سالہ بچے کے ساتھ مبینہ زیادتی، والد کے سنگین الزامات
بی بی سی نیوز بنگلہ کی رپورٹ میں شامل ایک معاملے میں ایک والد نے الزام لگایا کہ ان کے سات سالہ بیٹے کو مدرسے میں جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔
والد کے مطابق، اس واقعے میں مبینہ طور پر پہلے بڑے طلبہ ملوث تھے، جبکہ بعد میں ایک استاد پر بھی اس میں شریک ہونے کا الزام سامنے آیا۔
والد نے دعویٰ کیا کہ بچے نے مدرسے کے ایک سینئر مذہبی عہدیدار کو واقعے کے بارے میں بتایا، لیکن اسے تحفظ دینے کے بجائے مبینہ طور پر مارا پیٹا گیا اور خاموش رہنے پر مجبور کیا گیا۔
یہ الزامات انتہائی سنگین نوعیت کے ہیں، تاہم ان کی حقیقت کا تعین متعلقہ شواہد اور قانونی تحقیقات کے ذریعے ہی کیا جا سکتا ہے۔ رپورٹ میں بیان کردہ الزامات کو عدالتی طور پر ثابت شدہ جرم نہیں سمجھا جانا چاہیے۔
سابق طلبہ کے لیے آن لائن پلیٹ فارم، شکایات سامنے آنے لگیں
بی بی سی کی رپورٹ میں Awaz.bd نامی آن لائن پلیٹ فارم کا بھی ذکر کیا گیا ہے، جسے مدارس کے سابق طلبہ کے تجربات اور بچپن میں مبینہ جنسی استحصال سے متعلق بیانات سامنے لانے کے لیے قائم کیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق، پلیٹ فارم کو ابتدائی 10 دن کے دوران تقریباً 170 بیانات موصول ہوئے، جن میں سے لگ بھگ 30 کا تعلق مدارس سے تھا۔
یہ اعدادوشمار انفرادی طور پر جمع کرائے گئے بیانات کی تعداد ظاہر کرتے ہیں، نہ کہ آزادانہ طور پر تصدیق شدہ واقعات یا ثابت شدہ جرائم کی۔
اس نوعیت کے پلیٹ فارمز متاثرہ افراد کو اپنے تجربات بیان کرنے کا موقع فراہم کر سکتے ہیں، خصوصاً ایسے معاشروں میں جہاں بدنامی، خاندانی دباؤ یا اداروں کے خلاف بولنے کے خوف کے باعث شکایات سامنے لانا مشکل ہو۔
تاہم، بچوں کے تحفظ کے ماہرین کے لیے بنیادی اہمیت اس بات کی ہے کہ ہر شکایت کی محفوظ طریقے سے جانچ ہو، متاثرہ بچے کو مزید نقصان سے بچایا جائے اور الزامات کی غیر جانب دارانہ تحقیقات کی جائیں۔
رہائشی مدارس میں بچوں کے تحفظ کا مسئلہ
رہائشی تعلیمی اداروں میں بچے طویل عرصے تک اپنے خاندانوں سے دور رہتے ہیں اور روزمرہ زندگی کے لیے اساتذہ، منتظمین اور دوسرے طلبہ پر انحصار کرتے ہیں۔
ایسے ماحول میں اگر شکایت درج کرانے کا مؤثر طریقہ موجود نہ ہو تو بچے کے لیے کسی قابلِ اعتماد بالغ شخص تک پہنچنا مشکل ہو سکتا ہے۔
سابق طلبہ کے بیانات اور رپورٹ میں بیان کردہ خدشات نے اس سوال کو نمایاں کیا ہے کہ آیا بچوں کو شکایت کرنے کے لیے محفوظ اور خفیہ ذرائع دستیاب ہیں، اور کیا انتظامیہ کے خلاف شکایت کی صورت میں آزادانہ تحقیقات ممکن ہیں۔
بچوں کے تحفظ کے لیے کام کرنے والے ماہرین عام طور پر عملے کی مناسب جانچ، واضح حفاظتی ضوابط، جسمانی سزا کی ممانعت، شکایات کے آزادانہ نظام اور عملے کی باقاعدہ تربیت کو اہم اقدامات قرار دیتے ہیں۔
مدارس کی نگرانی اور نئے حفاظتی اقدامات
بی بی سی نیوز بنگلہ کی رپورٹ کے مطابق، بنگلہ دیش میں قَومی مدارس سے متعلق دینی تعلیمی اداروں کی تنظیم، الہیات العلیا، کی جانب سے طلبہ کے تحفظ اور جسمانی سزا کی روک تھام کے لیے رہنما ہدایات کا ذکر بھی کیا گیا ہے۔
رپورٹ میں بیان کردہ ہدایات میں جسمانی سزا کی ممانعت، طلبہ کے تحفظ کے لیے کمیٹیوں کے قیام یا انہیں فعال بنانے اور شکایات کی غیر جانب دارانہ تحقیقات جیسے اقدامات شامل ہیں۔
تاہم، صرف ہدایات جاری کرنا کافی نہیں ہوتا۔ ان اقدامات پر عمل درآمد، ان کی نگرانی اور شکایات کے نتائج کا جائزہ لینا بھی ضروری ہے تاکہ بچوں کو حقیقی تحفظ فراہم کیا جا سکے۔
اس کے ساتھ یہ بھی اہم ہے کہ کسی ادارے کے خلاف شکایت آنے پر تحقیقات ایسے طریقے سے ہوں جو متاثرہ بچے کی شناخت اور سلامتی کا تحفظ کرے، جبکہ الزام کا سامنا کرنے والے افراد کو بھی منصفانہ قانونی کارروائی کا حق حاصل ہو۔
بچوں کی خاموشی توڑنے کے لیے کیا ضروری ہے؟
ان واقعات سے متعلق سامنے آنے والی شکایات نے بنگلہ دیش میں مدارس کے انتظامی ڈھانچے، مذہبی حکام اور متعلقہ سرکاری اداروں کی ذمہ داریوں پر بحث کو تیز کیا ہے۔
بچوں کے تحفظ کے لیے ضروری ہے کہ انہیں بتایا جائے کہ کسی بھی نامناسب رویے یا استحصال کی صورت میں وہ کس سے رابطہ کر سکتے ہیں۔ شکایات سننے والے افراد کو تربیت دی جائے، الزامات کو سنجیدگی سے لیا جائے اور متاثرہ بچوں کو دھمکیوں یا انتقامی کارروائیوں سے محفوظ رکھا جائے۔
ماہرین کے نزدیک مؤثر حفاظتی نظام کا مقصد صرف واقعے کے بعد کارروائی کرنا نہیں، بلکہ ایسا ماحول قائم کرنا بھی ہے جہاں بچے خوف کے بغیر اپنی بات بیان کر سکیں۔
بنگلہ دیش میں سامنے آنے والے ان بیانات کے بعد اہم سوال یہ ہے کہ متعلقہ ادارے بچوں کے تحفظ کے لیے موجودہ ضوابط پر کس حد تک عمل درآمد یقینی بناتے ہیں اور مبینہ زیادتیوں کی شکایات کی تحقیقات کتنی شفاف اور مؤثر ہوتی ہیں۔
ماخذ و کریڈٹ: بی بی سی نیوز بنگلہ (BBC News Bangla)
ادارتی نوٹ: یہ خبر بی بی سی نیوز بنگلہ کی رپورٹ میں بیان کردہ معلومات کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔