ملتان میں گھناؤنی و سفاکانہ کارروائی: غیرت کے نام پر 22 سالہ نوجوان کا اپنی ہی ماں اور دو سگی بہنوں کو زندہ جلا کر قتل کرنے کا المناک واقعہ
فیصل آباد/ملتان: 4 نومبر 2026ء (ڈیجیٹل اطلاع) — ملتان میں پیش آنے والے ایک سفاکانہ اور دل دہلا دینے والے واقعے نے پورے معاشرے کو ہلکا کر رکھ دیا ہے، جہاں ایک 22 سالہ نوجوان نے نام نہاد "غیرت" کے نام پر اپنی ہی 45 سالہ والدہ اور 13 و 18 سالہ دو سگی بہنوں کو بے رحمی سے قتل کرنے کے بعد گھر کو پٹرول چھڑک کر آگ لگا دی اور باہر سے تالہ لگا کر فرار ہو گیا۔
تفصیلات کے مطابق، ملتان کے ایک رہائشی علاقے میں پیش آنے والے اس افسوسناک اور دردناک حادثے میں 22 سالہ بیٹے نے اپنی جنم دینے والی ماں اور معصوم بہنوں پر بیہمانہ تشدد اور قتل کی کارروائی کی۔ اس کے بعد ملزم نے حیوانیت کی تمام حدیں عبور کرتے ہوئے لاشوں اور گھر کو پٹرول چھڑک کر آگ کے حوالے کر دیا تاکہ جرم کے شواہد مٹائے جا سکیں اور باہر سے ڈبل تالہ لگا کر موقع سے فرار ہو گیا۔
اس انسانیت سوز واقعے کے سامنے آنے پر عوامی، سماجی اور تعلیمی حلقوں میں شدید غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے۔ شہریوں اور سماجی رہنماؤں نے اس رویے پر شدید ردِعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ "غیرت" کے نام پر اپنے ہی گھر کو اجاڑنا، ماں کے مفاد و قربانیوں کو پامال کرنا اور معصوم بہنوں کو زندہ جلا دینا کسی بھی صورت انسانیت یا کسی نظام کا حصہ نہیں ہو سکتا۔ اگر کسی بات پر اختلاف تھا تو گھر چھوڑ کر الگ ہو جانا بھی ممکن تھا، لیکن اس طرح پورے خاندان کو ختم کر دینا انتہائی بھیانک جرم اور سفاکی ہے۔
واقعے کی اطلاع ملتے ہی مقامی پولیس نے موقع پر پہنچ کر تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے اور ملزم کے خلاف سخت ترین قانونی دفعات کے تحت کارروائی کی جا رہی ہے۔ عوامی حلقوں نے حکومت اور عدلیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ سفاک ملزم کو عبرتناک سزا دی جائے تاکہ آئندہ کوئی بھی شخص ایسے بھیانک جرم کا ارتکاب نہ کر سکے۔