Post Main Ad Panel
Read in English نوکری کی تلاش میں لاہور آنے والی شانزے سیال راتوں رات اسٹار بن گئیں، سرائیکی گانے نے بھارت اور پاکستان میں دھوم مچا دی

نوکری کی تلاش میں لاہور آنے والی شانزے سیال راتوں رات اسٹار بن گئیں، سرائیکی گانے نے بھارت اور پاکستان میں دھوم مچا دی

96 ویوز

چھلڑے چھلڑے وال‘ نے لاکھوں دل جیت لیے، انسٹاگرام پر ایک کروڑ سے زائد ویوز، ہزاروں ریلز بن گئیں، پاکستانی گلوکارہ کی آواز سرحد پار بھی مقبول


لاہور، 21 اکتوبر 2026 — ڈیجیٹلِٹا ڈاٹ کام

پنجاب کے شہر میاں چنوں سے اینستھیزیالوجی کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد لاہور میں ملازمت کی تلاش میں آنے والی شانزے سیال نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ ان کا گایا ہوا ایک سرائیکی گانا انہیں چند ہی دنوں میں شہرت کی بلندیوں پر پہنچا
دے گا۔

شانزے سیال اور گلوکار محسن لاشاری کا گایا ہوا سرائیکی گانا ’چھلڑے چھلڑے وال‘ سوشل میڈیا پر وائرل ہو چکا ہے۔ بی بی سی اردو کی رپورٹ کے مطابق، انسٹاگرام پر اس گانے کو ایک کروڑ سے زائد بار دیکھا جا چکا ہے، جبکہ اس پر ہزاروں ریلز بنائی گئی ہیں۔

پاکستان اور بھارت میں موسیقی کے شائقین سمیت متعدد معروف شخصیات نے بھی اس گانے کو شیئر کیا، جس کے بعد اس کے مختلف ری میک اور نئے ورژن سامنے آنے لگے۔


پرانا گانا، نئی آوازیں اور سرحد پار مقبولیت

’چھلڑے چھلڑے وال‘ کوئی نیا گانا نہیں۔ اسے ماضی میں کئی گلوکار گا چکے ہیں، جن میں میانوالی سے تعلق رکھنے والے معروف سرائیکی گلوکار شفائاللہ خان روکھڑی بھی شامل ہیں۔

تاہم شانزے سیال اور محسن لاشاری کی آوازوں میں اس گانے کی نئی پیشکش نے سوشل میڈیا پر غیر معمولی مقبولیت حاصل کی۔

بی بی سی اردو کو دیے گئے انٹرویو میں شانزے نے بتایا کہ انہیں بچپن ہی سے گانے کا شوق تھا اور لوگ اکثر ان کی آواز کو منفرد قرار دیتے تھے، لیکن انہوں نے موسیقی کو کبھی باقاعدہ پیشہ بنانے کا فیصلہ نہیں کیا تھا۔

شانزے کے مطابق، یونیورسٹی میں تعلیم کے دوران ان کا گلوکاری سے تعلق مزید کم ہوگیا تھا۔ انہیں بعض لوگ کہتے تھے کہ ان کی آواز اچھی ہے، لیکن انہیں ردھم، ٹیمپو اور سازوں کے ساتھ گانے کی مہارت حاصل نہیں۔


بھارتی گلوکاراؤں نے گانا گایا تو مقبولیت کو نئی پرواز مل گئی

محسن لاشاری مختلف شوقیہ گلوکاروں کے ساتھ مشترکہ ویڈیوز بناتے رہتے ہیں۔ شانزے سے رابطہ ہوا تو انہیں ان کی آواز سرائیکی گانوں کے لیے موزوں لگی، جس کے بعد دونوں نے مل کر ’چھلڑے چھلڑے وال‘ گایا۔

ابتدا میں ویڈیو کو اچھے ویوز ملے، لیکن اس گانے کی مقبولیت میں اس وقت نمایاں اضافہ ہوا جب بھارتی گلوکاراؤں، جن میں سونندنا کا نام بھی شامل ہے، نے اسے دوبارہ گایا اور اصل گلوکاروں کو کریڈٹ دیا۔

شانزے کے مطابق، اس کے بعد گانے کو پاکستان میں بھی غیر معمولی پذیرائی ملی۔

ابتدائی طور پر گانے کا صرف ایک حصہ سوشل میڈیا پر گردش کر رہا تھا۔ بعدازاں محسن لاشاری کے مشورے پر دونوں نے مکمل گانے کی ویڈیو بھی شیئر کی، جس نے انسٹاگرام، یوٹیوب اور ٹک ٹاک پر مقبولیت کے نئے ریکارڈ قائم کیے۔


نوکری کی تلاش میں تھیں، گانے نے زندگی بدل دی

شانزے سیال کے لیے اس گانے کی مقبولیت ایسے وقت میں سامنے آئی جب وہ لاہور میں اپنے شعبے سے متعلق ملازمت تلاش کر رہی تھیں۔

وہ بتاتی ہیں کہ گھر والے انہیں واپس آنے کا کہہ رہے تھے، لیکن وہ کچھ حاصل کیے بغیر واپس نہیں جانا چاہتی تھیں۔

شانزے کے مطابق، اسی دوران ان کا گانا وائرل ہوگیا اور انہیں ایسی شہرت ملی جس کا انہوں نے تصور بھی نہیں کیا تھا۔

گانے کی مقبولیت کے بعد دونوں گلوکاروں کے سوشل میڈیا ان باکس میں معروف شخصیات اور مداحوں کے پیغامات کی بھرمار ہوگئی۔


بھارت میں بھی گانے کے چرچے، سوشل میڈیا پر دلچسپ تبصرے

’چھلڑے چھلڑے وال‘ کی مقبولیت صرف پاکستان تک محدود نہیں رہی بلکہ بھارت میں بھی اس گانے پر میمز اور دلچسپ تبصرے سامنے آئے۔

بعض بھارتی صارفین نے مذاق میں اسے پاکستان کا ’تازہ حملہ‘ قرار دیا، جبکہ ایک صارف نے لکھا کہ بھارت پاکستان کو کرکٹ میں ہرا سکتا ہے، لیکن موسیقی اور مدھر آوازوں کے معاملے میں اس کا مقابلہ کرنا مشکل ہے۔

گانے کی مقبولیت نے ایک بار پھر یہ ظاہر کیا کہ موسیقی زبان اور سرحدوں کی پابند نہیں ہوتی اور علاقائی زبانوں میں گائے گئے گانے بھی دنیا بھر کے سامعین تک پہنچ سکتے ہیں۔


’دوست کہتے تھے اپنا کانٹینٹ تبدیل کر
و‘

شانزے کا کہنا ہے کہ وہ پہلے بھی سرائیکی گانے گاتی رہی ہیں، لیکن بعض دوست انہیں اپنا مواد تبدیل کرنے کا مشورہ دیتے تھے۔

ان کے مطابق، وہ سرائیکی موسیقی ہی میں آگے بڑھنا چاہتی تھیں اور اسی شوق نے انہیں اپنے انداز پر قائم رہنے کی ترغیب دی۔

دوسری جانب محسن لاشاری نے تعلیم کی ڈگری حاصل کر رکھی ہے اور وہ کسی موسیقار گھرانے سے تعلق نہیں رکھتے۔ ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے سینئر گلوکاروں سے سیکھ کر اپنی گائیکی کو بہتر بنایا۔

شانزے نے اسکول اور کالج کے زمانے میں نعت خوانی کے مقابلوں میں بھی حصہ لیا اور تحصیل و ضلعی سطح پر کامیابیاں حاصل کیں۔

محسن کے ساتھ کام کرنے سے شانزے کو ٹیمپو، سکیل اور سازوں کے ساتھ گانے کی مشق کا موقع ملا، جبکہ محسن کے مطابق شانزے کی آواز سرائیکی موسیقی کے لیے خاص طور پر موزوں تھی۔


مداحوں کی محبت، ہاسٹل کے باہر لوگوں کا رش

شانزے اور محسن کا کہنا ہے کہ گانے کی مقبولیت کے بعد انہیں بھارت سے بھی بہت محبت اور پذیرائی مل رہی ہے۔

شانزے نے ایک ایسے پیغام کا ذکر بھی کیا جس میں بتایا گیا کہ ایک شدید بیمار دادی کی آخری خواہش تھی کہ وہ ایک بار ان سے بات کر سکیں۔

شہرت نے شانزے کی روزمرہ زندگی بھی بدل دی ہے۔ ان کے مطابق، ہاسٹل کے کمرے کا دروازہ بار بار کھٹکھٹایا جاتا ہے اور لوگ پوچھتے ہیں کہ کیا یہ شانزے کا کمرہ ہے۔ ان کے ساتھ رہنے والی طالبات بھی اب ان کے ساتھ سیلفیاں بناتی ہیں۔


ریکارڈ کمپنیوں کی پیشکشیں اور کنسرٹس

گانے کی کامیابی کے بعد دونوں گلوکاروں کے لیے موسیقی کے شعبے میں نئے مواقع پیدا ہوئے ہیں۔ ان کے مطابق، کئی ریکارڈ کمپنیوں نے انہیں گانے کے لیے منتخب کیا ہے، جبکہ ان کے کنسرٹس بھی جاری ہیں۔

شانزے اور محسن کا کہنا ہے کہ ’چھلڑے چھلڑے وال‘ نے انہیں اپنے مستقبل کے بارے میں واضح سمت دی ہے اور اب وہ گلوکاری میں مزید نام کمانا چاہتے ہیں۔

ایک ایسے وقت میں جب شانزے لاہور میں ملازمت تلاش کر رہی تھیں، سرائیکی گانے کی اس غیر معمولی کامیابی نے ان کے لیے موسیقی کی دنیا میں نئے دروازے کھول دیے۔

ماخذ و کریڈٹ: بی بی سی اردو (BBC News Urdu)

Post Bottom Ad Panel