Post Main Ad Panel
Read in English آبنائے ہرمز میں جہاز ڈوبنے کے بعد ’سمندری آئی فونز‘ کی دھوم،آن لائن فراڈ کا خدشہ

آبنائے ہرمز میں جہاز ڈوبنے کے بعد ’سمندری آئی فونز‘ کی دھوم،آن لائن فراڈ کا خدشہ

33 ویوز

19 اکتوبر 2026ء | ڈیجیٹل اطلاع ویب ڈیسک

آبنائے ہرمز میں کنٹینر بردار جہاز ڈوبنے اور سمندر میں سامان بکھرنے کے بعد مبینہ طور پر ’سمندری آئی فونز‘ کی فروخت کے اشتہارات سامنے آنے لگے، جس پر ایران کی سائبر پولیس نے شہریوں کو ممکنہ آن لائن فراڈ سے خبردار کر دیا ہے۔

ایرانی سائبر پولیس کے مطابق بعض افراد سستے آئی فونز کی خریداری میں عوامی دلچسپی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے جعلی اشتہارات شائع کر سکتے ہیں۔ حکام نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ غیر معمولی طور پر کم قیمت پر فروخت ہونے والے موبائل فونز کی پیشکشوں پر احتیاط برتیں اور تصدیق کے بغیر پیشگی رقم ادا نہ کریں۔


جہاز ڈوبنے کے بعد سمندر سے سامان نکالنے کی تصاویر وائرل

یہ معاملہ اس وقت توجہ کا مرکز بنا جب سوشل میڈیا پر ایسی تصاویر اور ویڈیوز گردش کرنے لگیں جن میں افراد کو سمندر میں تیرتے ہوئے سامان کو جمع کرتے دکھایا گیا۔ اطلاعات میں دعویٰ کیا گیا کہ سنگاپور کے پرچم تلے رجسٹرڈ کنٹینر بردار جہاز میں آئی فون 18 سمیت قیمتی اشیا موجود تھیں۔

ان اطلاعات کے بعد آن لائن خرید و فروخت کے پلیٹ فارمز پر نام نہاد ’سمندری آئی فونز‘ کے اشتہارات سامنے آنے لگے، جن میں مہنگے موبائل فونز کو مارکیٹ کی قیمت سے کم نرخوں پر فروخت کرنے کی پیشکش کی گئی۔

تاہم برطانوی نشریاتی ادارے کے فارسی شعبے کی حقائق جانچ ٹیم رپورٹ کی اشاعت تک آئی فون 18 سے متعلق گردش کرنے والی تصاویر کی تصدیق نہیں کر سکی تھی۔ جائزوں کے مطابق بعض تصاویر مصنوعی ذہانت کی مدد سے تیار یا تبدیل کی گئی ہو سکتی ہیں۔


نمکین پانی سے موبائل فون خراب ہونے کا خدشہ

ایرانی سائبر پولیس نے خبردار کیا ہے کہ اگرچہ مارکیٹ میں پیش کیے جانے والے بعض موبائل فون حقیقی بھی ہو سکتے ہیں، لیکن سمندر کے نمکین پانی اور شدید نمی سے متاثر ہونے والے آلات میں سنگین خرابیاں پیدا ہو سکتی ہیں۔

حکام کے مطابق پانی فون کے اندرونی برقی پرزوں، بیٹری، برقی تختیوں اور اسکرین کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔ بعض خرابیاں فوری طور پر سامنے نہیں آتیں اور فون استعمال کرنے کے کچھ عرصے بعد ظاہر ہو سکتی ہیں۔


جی ایف ایس پرائیڈ کیسے ڈوبا؟

سنگاپور کی بحری و بندرگاہی اتھارٹی کے مطابق کنٹینر بردار جہاز ’جی ایف ایس پرائیڈ‘ آبنائے ہرمز میں ایک میزائل نما شے سے ٹکرانے کے بعد آگ لگنے کے باعث ڈوب گیا تھا۔ اتھارٹی کے مطابق جہاز کے عملے کے تمام 21 ارکان کو بحفاظت نکال لیا گیا۔

دوسری جانب ایرانی بحریہ نے کہا تھا کہ ایک کنٹینر بردار جہاز غیر مجاز قرار دیے گئے بحری راستے میں داخل ہونے کے بعد سمندری بارودی سرنگ سے ٹکرایا، جس کے نتیجے میں آگ لگی اور جہاز ڈوب گیا۔

حادثے کی وجہ سے متعلق مختلف بیانات سامنے آئے ہیں۔ خبر رساں اداروں کی رپورٹس میں بھی اس حوالے سے غیر یقینی صورتِ حال کی نشاندہی کی گئی کہ ایرانی حکام جس جہاز کا ذکر کر رہے تھے، آیا وہی سنگاپور کا ڈوبنے والا جہاز تھا یا نہیں۔

سنگاپور کی بحری و بندرگاہی اتھارٹی نے اس سے قبل ایک دوسرے جہاز، جس کا نام ’جی ایف ایس‘ بتایا گیا، کے 12 اکتوبر کو ایک نامعلوم میزائل نما شے سے متاثر ہونے کی اطلاع بھی دی تھی۔ اس واقعے میں جہاز کے ڈھانچے کو نقصان پہنچا، تاہم وہ محفوظ مقام تک پہنچ گیا اور عملے کے تمام 22 ارکان محفوظ رہے۔


جہاز کے سامان میں آئی فون 18 ہونے کی تصدیق نہیں

جہاز کے ڈوبنے اور عملے کو بچانے کی اطلاعات سامنے آ چکی ہیں، تاہم دستیاب رپورٹس میں کارگو کی مکمل تفصیلات شائع نہیں کی گئیں۔

اس لیے یہ تصدیق نہیں ہو سکی کہ ڈوبنے والے جہاز میں آئی فون 18 یا دیگر مہنگے الیکٹرانک آلات موجود تھے۔ اسی طرح سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی تصاویر میں دکھائی دینے والے فونز کے ماڈل اور ان کا جہاز سے تعلق بھی ثابت نہیں ہوا۔

کارگو کی معتبر فہرست یا سرکاری دستاویز سامنے نہ آنے کے باعث ’سمندری آئی فونز‘ کی فروخت سے متعلق دعووں کو تصدیق شدہ حقیقت قرار نہیں دیا جا سکتا۔


عمان کی وارننگ، سمندر میں تیرتے کنٹینرز سے دور رہنے کی ہدایت

عمان کی وزارتِ ٹرانسپورٹ، مواصلات اور انفارمیشن ٹیکنالوجی نے ماہی گیروں اور دیگر افراد کو مسندم کے قریب پانیوں میں تیرتے ہوئے کنٹینرز کے پاس جانے سے خبردار کیا ہے۔

حکام کے مطابق بعض کنٹینرز میں خطرناک مواد موجود ہو سکتا ہے، جس سے قریب جانے یا سامان نکالنے کی کوشش کرنے والے افراد کی جان کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔

یہ انتباہ ظاہر کرتا ہے کہ سمندر سے سامان جمع کرنے کا معاملہ صرف ملکیت اور قانونی ضابطوں تک محدود نہیں بلکہ اس میں انسانی جانوں اور بحری سلامتی کے خطرات بھی شامل ہیں۔


’سمندری آئی فونز‘ کے اشتہارات اور آن لائن فراڈ کا خدش
ہ

جہاز کے حادثے سے متعلق تصاویر اور خبروں کے بعد سوشل میڈیا پر دلچسپ تبصرے بھی سامنے آئے۔ بعض صارفین نے اسے ’مچھلیوں کے بجائے آئی فونز کا شکار‘ قرار دیا، جبکہ دوسروں نے سامان کی اصل حیثیت اور اس کی ملکیت سے متعلق سوالات اٹھائے۔

اسی دوران ایران کے آن لائن خرید و فروخت کے پلیٹ فارم دیوار پر مبینہ طور پر آئی فون 18 کی تصاویر کے ساتھ متعدد اشتہارات سامنے آئے۔ بعض فروخت کنندگان ان فونز کو ’سمندری آئی فونز‘ قرار دے کر فروخت کرنے کی پیشکش کر رہے تھے۔ ان میں سے بعض اشتہارات بعد میں ویب سائٹ سے ہٹا دیے گئے۔

ایرانی سائبر پولیس کے سماجی و ثقافتی امور کے نائب سربراہ جواد مختار رضائی نے خبر رساں ادارے تسنیم سے گفتگو کرتے ہوئے خبردار کیا کہ دھوکہ باز سستی اشیا خریدنے کی خواہش سے فائدہ اٹھا کر جعلی اشتہارات شائع کرتے ہیں۔ ان کے مطابق بعض جعل ساز بیعانے، ترسیل کے اخراجات یا پیشگی ادائیگی کے نام پر رقم وصول کرنے کے بعد خریدار سے رابطہ منقطع کر دیتے ہیں۔


شہریوں کو احتیاط برتنے کی ہدایت

حکام کی وارننگ کے بعد صارفین کو مشورہ دیا گیا ہے کہ غیر معمولی طور پر کم قیمت والے موبائل فونز خریدنے سے پہلے فروخت کنندہ، فون کی اصل حیثیت اور اس کی تکنیکی حالت کی تصدیق کریں۔

ماہرین کے مطابق سمندر سے نکالے گئے کسی بھی برقی آلے کی ظاہری حالت درست ہونے کے باوجود اس کے اندرونی پرزے خراب ہو سکتے ہیں۔ اس لیے صرف کم قیمت یا سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی تصاویر کی بنیاد پر خریداری کرنا مالی نقصان کا سبب بن سکتا ہے۔

Post Bottom Ad Panel