9 سال بعد بھی بیٹی کو انصاف نہ ملنے پر والد کی جوڈیشل کمپلیکس کے باہر سوزش، خود کو آگ لگا لی
مظفرگڑھ / فیصل آباد: 31 اکتوبر 2026ء (ڈیجیٹل اطلاع) — مظفرگڑھ میں 9 سال قبل زیادتِی کا شکار ہونے والی بیٹی کو انصاف نہ ملنے اور ملزم کی عدم شواہد پر بریت سے دلبرداشتہ ہو کر والد نے جوڈیشل کمپلیکس کے مرکزی گیٹ پر خود پر پیٹرول چھڑک کر آگ لگا لی، جس کے نتیجے میں وہ شدید جھلس گیا۔
تفصیلات کے مطابق جوڈیشل کمپلیکس مظفرگڑھ کے مین گیٹ کے سامنے اللہ بچایا نامی شخص نے شدید احتجاج کرتے ہوئے اچانک خود پر پیٹرول چھڑک کر آگ لگا دی۔ موقع پر موجود پولیس اہلکاروں اور عام شہریوں نے فوری طور پر آگ پر قابو پانے کی کوشش کی۔ ریسکیو 1122 کے مطابق آگ لگنے کے باعث متاثرہ شخص اللہ بچایا کے جسم کا تقریباً 70 فیصد حصہ جھلس چکا ہے، جسے تشویشناک حالت میں فوری طبی امداد کے لیے ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
پولیس اور اہل علاقہ کے مطابق شاہجمال کے رہائشی ملزم تنویر پر 9 سال قبل اللہ بچایا کی شادی شدہ بیٹی سے زیادتی کا الزام تھا، جبکہ اس المیے کے باعث متاثرہ خاتون کو خاوند کی طرف سے طلاق بھی ہو چکی تھی۔ گزشتہ روز عدالت نے عدم شواہد کی بنیاد پر ملزم کو بری کر دیا تھا، جس کے بعد ملزمان کے رشتہ داروں نے عدالت کے باہر جشن منایا۔ بیٹی کو طویل عرصہ انصاف نہ ملنے اور ملزمان کے رویے سے شدید رنجیدہ و دلبرداشتہ ہو کر والد نے یہ خونی قدم اٹھایا۔ پولیس نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے قانون کے مطابق کارروائی شروع کر دی ہے۔