خواتین کو وراثت سے محروم کرنے والی قبائلی روایات کو غیرقانونی قراردے دیا گیا
نیشنل

خواتین کو وراثت سے محروم کرنے والی قبائلی روایات کو غیرقانونی قراردے دیا گیا

07 July 2026

(ڈیجیٹل اطلاع) سپریم کورٹ نے خواتین کو وراثت سے محروم کرنے والی قبائلی روایت کو غیرقانونی قرار دے دیا ہے۔ سپریم کورٹ کی جانب سے مٹھی خان کی وراثتی زمین پر قبضے کے تنازع پر فیصلہ سنایا ہے جبکہ فیصلہ جسٹس عرفان سعادت خان نے تحریر کیا اور بلوچستان ہائی کورٹ کے فیصلے کو برقرار رکھا ہے۔
عدالت کا کہنا ہے کہ فراڈ سے حاصل شدہ جائیداد پر کوئی حق نہیں، خواتین کو وراثت سے محروم کرنے والی قبائلی روایت غیرقانونی ہیں، جرگہ قرآن و سنت کے خلاف کسی وارث کا حق ختم نہیں کرسکتا۔ فیصلے کے مطابق بیٹیوں کو وراثت سے محروم کرنا شریعت، قانون دونوں کی خلاف ورزی ہے، ریونیو ریکارڈ میں انتقال ملکیت کا حتمی ثبوت نہیں، فراڈ سے کی گئی منتقلی پر کھڑی پوری قانونی عمارت گرجاتی ہے۔ سپریم کورٹ کا کہنا ہے کہ وراثتی زمین صرف اسلامی قانون وراثت کے مطابق تقسیم ہوگی، خواتین کے حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا، اسلامی شریعت کے خلاف پر قبائلی رسم و رواج کالعدم ہے۔ عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ قانون اور شریعت سے بالاتر کوئی جرگہ یا روایت نہیں ہے۔