خیبر پختونخوا کے معدنی وسائل پر تنازع، محمد خیل تانبے کے منصوبے کی رائلٹی پر سوالات اٹھ گئے
پشاور (ڈیجیٹل اطلاع) — 19 اکتوبر 2026ء
خیبر پختونخوا میں معدنی وسائل کے ٹھیکوں، رائلٹی کی ادائیگی اور شمالی وزیرستان کے محمد خیل تانبے کے منصوبے پر سیاسی تنازع شدت اختیار کر گیا ہے۔ مختلف سیاسی رہنماؤں نے معدنی ذخائر سے حاصل ہونے والی آمدن، ٹھیکوں کے اجرا اور صوبے کو ملنے والی رائلٹی سے متعلق سوالات اٹھا دیے ہیں، جبکہ وفاقی حکومت نے پاکستان تحریک انصاف کے دورِ حکومت میں جاری کیے گئے معدنیاتی لائسنسوں کی تحقیقات کا عندیہ دیا ہے۔
وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری کا کہنا ہے کہ سابق صوبائی حکومت کے دور میں جاری کیے گئے معدنیاتی لائسنسوں کی تحقیقات کی جائیں گی۔ دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف کے سابق صوبائی وزیر معدنیات عارف احمدزئی نے دعویٰ کیا ہے کہ شمالی وزیرستان میں تانبے کی کان کنی کے ایک بڑے منصوبے سے صوبے کو واجب الادا رائلٹی کی مکمل ادائیگی نہیں ہو رہی۔
معدنی وسائل اور ہنگامی اقدامات پر سیاسی اختلافات
معدنی وسائل سے متعلق یہ بحث 16 اکتوبر کو ملتان میں جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے خطاب کے بعد نمایاں ہوئی، جس میں انہوں نے سابقہ قبائلی اضلاع میں معدنی ذخائر کی اہمیت کا حوالہ دیتے ہوئے حکومتی اقدامات پر سوالات اٹھائے تھے۔
مولانا فضل الرحمان کا مؤقف تھا کہ 2018ء میں سابقہ قبائلی اضلاع کے خیبر پختونخوا میں انضمام کے بعد وہاں کے معدنی وسائل پر صوبے کے عوام کا حق تسلیم کیا گیا تھا۔
وفاقی حکومت نے خیبر پختونخوا میں ہنگامی اقدامات کی وجہ شدت پسندی کے بڑھتے ہوئے واقعات کو قرار دیا ہے، جبکہ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے مولانا فضل الرحمان کے مؤقف سے اختلاف کیا ہے۔
حکومتی نمائندوں نے معدنی وسائل اور ہنگامی اقدامات کے درمیان تعلق کے دعوؤں کو مسترد کیا ہے، تاہم اس معاملے پر سیاسی بحث جاری ہے۔
سابق صوبائی وزیر کا رائلٹی مکمل ادا نہ ہونے کا دعویٰ
سابق صوبائی وزیر معدنیات عارف احمدزئی کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے دورِ حکومت میں معدنیات کے شعبے میں معاشی سرگرمیوں میں اضافہ ہوا اور صوبے کی آمدن تقریباً 70 کروڑ روپے سے بڑھ کر 14 ارب روپے تک پہنچ گئی۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ بڑے پیمانے پر کان کنی کے چار لائسنس جاری کیے گئے تھے، تاہم ان کے مطابق اس وقت صرف فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن سے منسلک محمد خیل کاپر منصوبہ فعال ہے۔
عارف احمدزئی کا کہنا ہے کہ رائلٹی کی ادائیگی کے معاملے پر محکمہ معدنیات سے متعدد مرتبہ رابطہ کیا گیا، لیکن مکمل ادائیگی کے حوالے سے مسائل برقرار رہے۔
ان کے ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق دستیاب معلومات سے نہیں ہو سکی۔
محمد خیل منصوبے کی رائلٹی کتنی ہے؟
عوامی نیشنل پارٹی سے تعلق رکھنے والے نثار باز خان نے بھی محمد خیل منصوبے سے حاصل ہونے والی رائلٹی کے اعداد و شمار پر سوالات اٹھائے ہیں۔
ان کے مطابق قوانین کے تحت پانچ فیصد رائلٹی صوبے کے عوام کا حق ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ پانچ فیصد رائلٹی کے حساب سے تقریباً 34 ارب 50 کروڑ روپے بنتے ہیں، جبکہ محکمہ معدنیات کے ریکارڈ کے مطابق صرف 16 کروڑ 90 لاکھ روپے ادا کیے گئے۔
نثار باز خان نے اس معاملے کی شفاف جانچ اور احتساب کا مطالبہ کیا ہے۔ تاہم ان کے بیان میں بیان کردہ رقم کے حساب، متعلقہ واجبات اور ادائیگیوں کی مکمل تفصیلات کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔
خواجہ آصف کے معدنیاتی لائسنسوں سے متعلق اعداد و شمار
وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے معدنیاتی لائسنسوں کی تعداد سے متعلق اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ قیامِ پاکستان سے 2010ء تک خیبر پختونخوا میں 482 لائسنس جاری کیے گئے تھے۔
ان کے مطابق 2020ء تک یہ تعداد بڑھ کر 1,762، فروری 2024ء تک 3,962 اور موجودہ وقت میں مجموعی طور پر 4,917 ہو گئی۔ ان میں 4,133 لائسنس آباد اضلاع جبکہ 784 ضم شدہ اضلاع میں جاری کیے گئے۔
خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن کو 2015ء میں شمالی وزیرستان کے علاقے بویا میں ایک لائسنس جاری کیا گیا تھا۔ ان کے مطابق معدنیات کے شعبے میں 500 سے زائد نئی درخواستیں زیرِ غور ہیں اور ان میں سے کوئی درخواست کسی عسکری ادارے کی جانب سے جمع نہیں کرائی گئی۔
محمد خیل تانبے کا منصوبہ کیا ہے؟
شمالی وزیرستان کے علاقے محمد خیل میں واقع تانبے کی کان تقریباً 30 مربع کلومیٹر رقبے پر پھیلی ہوئی ہے۔ یہ منصوبہ ایم ایل 30 کاپر مائننگ پروجیکٹ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، جسے ڈیگن ایکسپلوریشن ورکس چلاتی ہے۔ یہ کمپنی فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن سے منسلک ہے۔
فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن کی ویب سائٹ کے مطابق یہ پاکستان میں تانبے کی کان کنی کے بڑے منصوبوں میں شامل ہے اور 2019ء سے فعال ہے۔ منصوبے میں کھلی کان اور روزانہ 1,500 ٹن کی گنجائش رکھنے والا معدنی پراسیسنگ پلانٹ شامل ہے۔
منصوبے کے معاہدے اور منافع کی تقسیم
صوبائی اسمبلی کے اجلاس سے متعلق دستیاب دستاویز کے مطابق محمد خیل منصوبے کے لیے 15 جولائی 2016ء کو 20 سالہ کان کنی کا لیز معاہدہ جاری کیا گیا تھا، جبکہ 5 اپریل 2017ء کو اُس وقت کی فاٹا ترقیاتی اتھارٹی کے ساتھ مشترکہ منصوبے کا معاہدہ کیا گیا۔
دستاویز میں منافع کی تقسیم کا تناسب ڈیگن ایکسپلوریشن ورکس کے لیے 50 فیصد، محکمہ ترقیِ معدنیات کے لیے 10 فیصد، سماجی ذمہ داری کے فنڈ کے لیے 22 فیصد اور قومی کمیشن کے لیے 18 فیصد درج ہے۔
آٹھ برس میں 9 لاکھ 52 ہزار میٹرک ٹن سے زائد پیداوار
دستیاب دستاویز کے مطابق 2016ء سے 2024ء تک منصوبے سے 9 لاکھ 52 ہزار 878 میٹرک ٹن معدنی پیداوار حاصل ہوئی، جبکہ رائلٹی، کرایوں اور مشترکہ منصوبے کی مد میں 189.803 ملین روپے وصول کیے گئے۔
دستاویز میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ سرکاری واجبات کی بروقت ادائیگی کے لیے متعدد نوٹس جاری کیے گئے تھے، تاہم ان نوٹسوں اور بعد کی ادائیگیوں کی مکمل تفصیلات دستیاب نہیں۔
ان اعداد و شمار اور سیاسی رہنماؤں کے دعوؤں کے درمیان فرق نے منصوبے کی مالی شفافیت اور سرکاری نگرانی کے حوالے سے سوالات کو جنم دیا ہے۔ واجب الادا رائلٹی کی حتمی رقم معلوم کرنے کے لیے معدنی پیداوار، فروخت، معاہدے کی شرائط اور موصول ہونے والی ادائیگیوں کا تفصیلی جائزہ ضروری ہے۔
منصوبے کو برآمدی کارروائیوں کے مخصوص علاقے کا درجہ
منرل ایکسپلوریشن ڈیویلپمنٹ آپریشنز کی ویب سائٹ کے مطابق 2023ء میں منصوبے کی تزویراتی اہمیت کے پیش نظر اسے مخصوص برآمدی کارروائیوں کے علاقے کا درجہ دیا گیا تھا۔
برطانوی نشریاتی ادارے نے اس معاملے پر مزید وضاحت کے لیے فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن کو سوالات بھیجے تھے، تاہم دستیاب معلومات میں ادارے کا جواب شامل نہیں۔
معدنی وسائل سے صوبے کو کتنا فائدہ پہنچ رہا ہے؟
خیبر پختونخوا کے معدنی وسائل سے متعلق جاری تنازع میں بنیادی سوال یہ ہے کہ معدنی پیداوار سے حاصل ہونے والی آمدن اور رائلٹی کی تقسیم کس طرح کی جا رہی ہے اور صوبے کے عوام کو ان وسائل سے ان کا قانونی و مالی حق کس حد تک مل رہا ہے۔
محمد خیل تانبے کے منصوبے کے معاہدوں، پیداوار، رائلٹی اور سرکاری واجبات کا آزادانہ جائزہ اس معاملے کی اصل صورتِ حال واضح کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔