Post Main Ad Panel
Read in English میں ہر رات بچوں کی گنتی کرتا ہوں‘: افغانستان کے 58 بچوں کے والد کی غربت سے جنگ

میں ہر رات بچوں کی گنتی کرتا ہوں‘: افغانستان کے 58 بچوں کے والد کی غربت سے جنگ

42 ویوز


 اکتوبر 2026

چار بیویوں سے 58 بچوں کے والد محمد صادق کے لیے سب کے نام یاد رکھنا بھی مشکل ہے، جبکہ خاندان کی کفالت، خوراک اور تعلیم کا انتظام روزانہ کا بڑا چیلنج بن چکا ہے۔

افغانستان کے صوبے ارزگان میں رہنے والے 57 سالہ محمد صادق کا خاندان غیر معمولی طور پر بڑا ہے۔ ان کی چار بیویوں سے 58 بچے ہیں، تاہم اتنے بڑے خاندان کی کفالت کرنا ان کے لیے ایک مشکل جدوجہد بن چکا ہے۔

محمد صادق کہتے ہیں کہ کبھی کبھار انھیں اپنے تمام بچوں کے نام بھی یاد نہیں رہتے، اس لیے وہ اکثر انھیں ’بیٹا‘ کہہ کر پکارتے ہیں۔ ان کے مطابق وہ ہر رات سونے سے پہلے بچوں کی گنتی ضرور کرتے ہیں تاکہ اطمینان کر سکیں کہ سب گھر میں موجود ہیں۔

ان کا سب سے چھوٹا بچہ چند ہفتے قبل پیدا ہوا تھا، جبکہ وہ برسوں کے دوران اپنے 14 بچوں کو بھی کھو چکے ہیں۔


’کبھی گنتی میں ایک بچہ کم نکل آتا ہ
ے‘

محمد صادق اپنے بڑے خاندان کے بارے میں بات کرتے ہوئے ایک واقعہ سناتے ہیں کہ ایک رات جب پورا خاندان دسترخوان کے گرد بیٹھا تھا تو انھوں نے بچوں کی گنتی شروع کی۔ گنتی مکمل ہونے پر ایک بچہ کم نکلا۔

وہ کہتے ہیں کہ انھیں یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ غیر حاضر بچہ لڑکا تھا یا لڑکی۔ بعد میں بچوں کی ماؤں سے پوچھنے پر معلوم ہوا کہ ایک بچہ اپنی نانی کے گھر گیا ہوا تھا اور رات وہیں گزارنے والا تھا۔

ایک اور واقعے میں محمد صادق بتاتے ہیں کہ اپنی ایک بیٹی کے نکاح کے موقع پر وہ اس کا نام بھول گئے اور غلطی سے دوسری بیٹی کا نام بتا دیا۔

ان کے مطابق نکاح پڑھانے والے مولوی صاحب نے ہنستے ہوئے کہا کہ گھر جا کر دوبارہ معلوم کر لیں کہ کہیں نام غلط تو نہیں بتایا گیا۔

محمد صادق کہتے ہیں کہ جب چھوٹے بچے ان کے گرد جمع ہوتے ہیں تو گھر شور، ہنسی اور چہل پہل سے بھر جاتا ہے، جیسے وہاں شادی کی تقریب ہو رہی ہو۔


کم عمری میں شادی اور بڑے خاندان کی ذمہ داریاں

محمد صادق کی پہلی شادی اس وقت ہوئی جب ان کی عمر 20 سال تھی۔ ان کے مطابق ان کی چاروں بیویوں کی شادی کم عمری میں ہوئی اور نکاح کے وقت ان کی عمریں 13 سے 16 سال کے درمیان تھیں۔

بی بی سی کی رپورٹ میں کم عمری کی شادیوں کے بارے میں پوچھے جانے پر محمد صادق نے بتایا کہ ہر شادی کے لیے انھیں کئی برس تک ’طویانہ‘، یعنی دلہن کے خاندان کو دیا جانے والا معاوضہ، جمع کرنا پڑتا تھا۔

وہ کہتے ہیں کہ زیادہ بچوں کی خواہش کے پیچھے ان کا مقصد ’امتِ محمدی میں اضافہ‘ کرنا تھا۔

تاہم ان کی بیویوں کے لیے مسلسل حمل، زچگی اور بچوں کی پرورش ایک طویل اور مشکل ذمہ داری رہی ہے۔ خاندان کو درپیش مسائل میں مالی مشکلات کے ساتھ بچوں کی صحت، خوراک اور تعلیم بھی شامل ہیں۔


دو وقت کا کھانا بھی مشکل، بعض بچے بھوکے سوتے ہیں

محمد صادق گاڑیوں کے ایک شوروم میں ملازمت کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر کوئی گاڑی فروخت ہو جائے تو انھیں ایک ہزار افغانی کمیشن ملتا ہے، لیکن اتنے بڑے خاندان کے اخراجات پورے کرنے کے لیے یہ آمدنی ناکافی ہے۔

ان کے مطابق خاندان کے لیے عموماً صبح اور شام دو وقت کھانا تیار کیا جاتا ہے، جبکہ گھر کی دو خواتین کھانا پکانے کی ذمہ داری سنبھالتی ہیں۔

غربت کے باعث بعض اوقات بچوں کو رات بھوکا سونا پڑتا ہے۔ خاندان کے بڑھتے ہوئے اخراجات پورے کرنے کے لیے محمد صادق کے علاوہ ان کے کئی بچے بھی کام کرتے ہیں۔ بعض بچے کاغذ، پلاسٹک اور دوسری قابلِ استعمال اشیا جمع کرتے ہیں، جنھیں ایندھن کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے یا فروخت کر کے گھر کے اخراجات میں حصہ ڈالا جاتا ہے۔


ایک کمبل میں چھ یا سات افراد سوتے ہیں

خاندان کی رہائش بھی ان کی مالی مشکلات کی عکاسی کرتی ہے۔ سردیوں میں گھر کے افراد کمروں میں اور گرمیوں میں صحن میں اکٹھے ہو کر کھانا کھاتے ہیں۔

سرد راتوں میں بعض اوقات چھ یا سات افراد ایک ہی پتلے کمبل میں سوتے ہیں۔ ان کے پاس سادہ گدوں کے سوا سونے کی کوئی خاص سہولت موجود نہیں۔

گھر کے کمروں میں کھڑکیاں اور باقاعدہ دروازے بھی نہیں ہیں، جبکہ داخلی راستوں پر باریک پردے لگے ہوئے ہیں۔

خاندان کے پاس نہانے، کپڑے اور برتن دھونے کے لیے بھی محدود سہولیات ہیں۔ ایک ہی جگہ مختلف گھریلو ضروریات کے لیے استعمال ہوتی ہے، جو صحت اور صفائی کے حوالے سے مشکلات پیدا کر سکتی ہے۔

ایندھن کے لیے خاندان زیادہ تر کاغذ اور دیگر دستیاب اشیا جلا کر آگ روشن کرتا ہے۔


بچوں کی تعلیم محمد صادق کی سب سے بڑی خواہش

محمد صادق خود تعلیم حاصل نہیں کر سکے، لیکن ان کا کہنا ہے کہ انھوں نے اپنے بچوں کو اسکول بھیجنے کی بھرپور کوشش کی ہے۔

تاہم محدود آمدنی کے باعث تعلیمی اخراجات برداشت کرنا ان کے لیے آسان نہیں۔ خاندان کے لیے روزانہ کی خوراک اور رہائش کا بندوبست ہی ایک بڑا مسئلہ ہے، ایسے میں بچوں کی تعلیم کے اخراجات پورے کرنا مزید مشکل ہو جاتا ہے۔

محمد صادق حکومت، امدادی اداروں اور صاحبِ استطاعت افراد سے مدد کی اپیل کرتے ہیں تاکہ وہ اپنے بچوں کی بنیادی ضروریات پوری کر سکیں۔


کم عمری میں حمل ماؤں اور بچوں کی صحت کے لیے خطرہ

ماہرینِ صحت کے مطابق کم عمری میں شادی اور حمل ماں اور نومولود دونوں کے لیے طبی خطرات بڑھا سکتے ہیں۔ بار بار حمل سے خواتین کو مزید پیچیدگیوں کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔

افغانستان میں، خصوصاً دیہی اور دور افتادہ علاقوں میں، معیاری طبی سہولیات تک محدود رسائی زچگی کے دوران خواتین کی صحت کے لیے ایک اہم مسئلہ ہے۔

محمد صادق کے خاندان میں کم عمری کی شادیوں، مسلسل حمل اور 14 بچوں کی اموات کی تفصیلات اس بات کو نمایاں کرتی ہیں کہ بڑے خاندان کی ذمہ داریوں کے ساتھ صحت اور معاشی تحفظ کے مسائل کس طرح ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔


’میرے بچے کبھی بھوکے نہ سوئی
ں‘

اپنی زندگی کی خواہشات کے بارے میں بات کرتے ہوئے محمد صادق کہتے ہیں کہ ان کی دو بڑی آرزوئیں ہیں: وہ چاہتے ہیں کہ ان کے بچے تعلیم حاصل کریں، دین اور دنیا کا علم سیکھیں، اور انھیں کبھی بھوکا نہ سونا پڑے۔

وہ کہتے ہیں، ’میری پہلی خواہش ہے کہ میرے بچے تعلیم حاصل کریں، دین اور دنیا کا علم سیکھیں، اور دوسری یہ کہ انھیں کبھی بھوکا نہ سونا پڑے اور ان کا پیٹ بھرا رہے۔‘

محمد صادق کے لیے 58 بچوں کی کفالت محض ایک بڑے خاندان کو سنبھالنے کا معاملہ نہیں، بلکہ روزانہ خوراک، رہائش، صحت اور تعلیم کی بنیادی ضروریات پوری کرنے کی مسلسل جدوجہد ہے۔

ماخذ و کریڈٹ: بی بی سی نیوز اردو (BBC News اردو)

Post Bottom Ad Panel